20 اگست 2026 - 15:47
معاریو: اسرائیل سیاسی محاذ پر تنہا، ترکیہ اور قطر کا محتاج ہو گیا

صہیونی اخبار معاریو نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل غزہ، لبنان اور شام سمیت اہم علاقائی محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے باوجود سیاسی طور پر تعطل کا شکار ہے اور کئی معاملات میں اسے ترکیہ اور قطر جیسے ممالک کے کردار کی پیروی کرنا پڑ رہی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی اخبار معاریو نے ایک تجزیے میں لکھا ہے کہ سابق اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے اپنی جماعت کا نیا سکیورٹی منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں قطر کو دشمن ملک قرار دینے، لبنان میں حزب اللہ کی کسی بھی کارروائی کی صورت میں ایران کو اس کی قیمت چکانے پر مجبور کرنے، جنگ کے بعد غزہ کے انتظام میں مصر کو مرکزی کردار دینے اور اسرائیلی فوج کو غزہ کے عرب علاقوں میں داخل کرنے سمیت مختلف تجاویز شامل ہیں۔

اخبار نے بتایا کہ انتخابات سے قبل مغربی کنارے، لبنان اور شام کے حوالے سے بھی متعدد سکیورٹی اور سیاسی منصوبے پیش کیے جا رہے ہیں۔

معاریو کے فوجی امور کے تجزیہ کار آوی اشکنازی نے جنوبی لبنان کے علی الطاہر کی پہاڑیوں میں اسرائیلی فوج کی 36ویں ڈویژن کی سرگرمیوں اور غزہ میں ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اب بھی حماس پر فوجی دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

شام کے ادلب میں ابو الظهور ہوائی اڈے پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے اشکنازی نے اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان براہِ راست تصادم کے امکانات کو مبالغہ آمیز قرار دیا اور کہا کہ تینوں فریق کشیدگی میں اضافے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل شام کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنی سرحدوں کے قریب کسی بھی مخالف قوت کو تعینات ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔

تاہم، معاریو کے تجزیہ کار نے اسرائیل کا اصل مسئلہ فوجی طاقت کے بجائے سیاسی جمود قرار دیا۔ ان کے مطابق اسرائیل علاقائی سیاسی صورتحال کی قیادت کرنے کے بجائے کئی معاملات میں خود اس کے پیچھے چلنے پر مجبور ہے، جس کے نتیجے میں غزہ سے متعلق مذاکرات میں قطر اور ترکیہ کو مرکزی کردار حاصل ہو گیا ہے۔

اشکنازی نے خطے میں مصر، اردن، سعودی عرب اور خلیجی عرب ممالک کے کردار کو مزید فعال بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو فوجی اقدامات کے ساتھ سیاسی میدان میں بھی پہل کرنا ہوگی۔

انہوں نے سعودی عرب اور فرانس کی مدد سے لبنان کی حکومت کو مضبوط بنانے اور شام میں سیاسی راستے اختیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ انتخابات کے بعد اسرائیل کے حریف سیاست دانوں میں سے کون ایسا جامع اور کثیرالجہتی سیاسی منصوبہ پیش کر سکے گا جو اسرائیل کے لیے علاقائی صورتحال کو نئی سمت دے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha